پڑھیئے ۔۔۔ گلگت بلتستان کی ڈائری
یہ ہے گلگت و بلتستان، جہاں دنیا کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے، زندگی بدل گئی ہے، آج کل ہر چیز ماڈرن ہوچکی ہے، یہاں تک کہ لوگوں کی سوچ اور فکر کی نوعیت بھی بدل چکی ہے، یہاں کے بیوروکریٹس نے بھی رشوت کا نام ہی بدل دیا، اب رشوت لینے اور دینے والے افراد اسے عطیہ، ہدیہ، تحفہ یا اجرت کا نام دیتے ہیں، تاکہ حرمت کا تصور ہی ختم ہو جائے۔ دنیا کے اکثر مناطق کی طرح یہاں کے بیورو کریٹس بھی بہت بھولے بھالے لوگ ہیں، اتنے بھولے بھالے کہ نعوذ باللہ وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ کے عملی مصداق بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے آفیسر آپ کو تمام ممالک میں بالخصوص جی بی کے مختلف اداروں میں وافر مقدار میں ملیں گے، چاہے وہ ادارے نئی نسل کی تعلیم و تربیت سے متعلق ہوں، یا امن و امان برقرار کرنے والی پولیس ہو یا تعمیر و ترقی سے مربوط ادارے پی ڈبلیو ڈی وغیرہ۔ ہر جگہ رشوت اور قانون شکنی کا بازار گرم ملے گا اور اس گرما گرم بازار میں بیوروکریٹ طبقہ اللہ اللہ اور بات بات پر توبہ میری توبہ کہتا ہوا بھی دکھائی دے گا۔
بیورو کریٹس کی طرح یہاں کے سیاستدان بھی اقرباء پروری میں کسی طور کم نہیں، وہ اسے صلہ رحمی کا نام دے کر حق داروں کا حق مارنے میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ ان میں عابد شب زندہ دار اور قاری قرآن بھی موجود ہیں اور وہ اس نام نہاد صلہ رحمی کے وسیلے سے رضائے خدا کو جلب کرنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح کی صلہ رحمی کرنے والے کئی مرتبہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کو قانون کے دائرہ کار سے نجات دلانے میں بھی مشغول نظر آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا، ہم نے کبھی رشوت نہیں لی، ہم نے کبھی زنا نہیں کیا، ہمارے ہاتھ کسی مظلوم کے خون سے رنگین نہیں ہوئے، ہم نے کبھی قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کیا، ہم ہر وقت میرٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
جی ہاں آج ہم بہت ماڈرن ہوچکے ہیں، ہمارے ہاں اب رشوت کا نام بدل کر تحفہ و ہدیہ، اقربا پروری کا نام بدل کر صلہ رحمی، میرٹ کا معنی تعلقات، رشتہ داری، اقرباء پروری، سفارش اور رشوت کا نام سیاست رکھ دیا گیا ہے۔ اب جس جس کے پاس یہ چیزیں ہوں، وہ میرٹ پر اترتا ہے اور جو افراد جائز ناجائز ، حلال و حرام کے تمام قیودات کو بالائے طاق رکھ کر ان کی حمایت اور رفاقت کریں، وہی افراد سماج کے سب سے لائق اور فائق افراد قرار پاتے ہیں۔ یہاں پر سیاست و دینداری اور ایمانداری کے لباس میں بے چارے عوام کا خون چوسا جا رہا ہے، کبھی اقتصادی راہداری کے نام پر تو کبھی آئینی حقوق کے نام پر عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔
اہلیان گلگت و بلتستان کو اب تو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ اسمبلی میں پہنچ کر اہم ملی امور پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اقتصادی راہداری جیسے مسئلے میں انہیں کوئی دلچسبی ہی نہیں، جن کا ایجنڈا فقط حکومت پاکستان کی ہاں میں ہاں ملانا ہے اور جو ہمارے ہاں کی غیور عوام پر جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کی وجہ سے سالہا سال مسلط ہیں، ان لوگوں کے ہوتے ہوئے عوام کو کوئی ریلیف، فائدہ اور ترقی نصیب نہیں ہوسکتی۔ اگر ترقی، رشوت کا نام ہدیہ، دھاندلی کا نام سیاست، اقرباء پروری کا نام صلہ رحمی اور میرٹ کا نام تعلقات ہی ہے تو پھر بہت ترقی ہوچکی ہے، بصورت دیگر ۔۔۔ ہم سب کو ملکر اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے سوچنا ہوگا
اس ویب لاگ میں علمی،اجتماعی،مذہبی ،اخلاقی اور سیاسی کالمز کے علاوہ مختلف حاليه موضوعات پر آپ کو بہترین تحقیقی اور علمی مقالات اردو ،فارسی اور انگلش میں پڑھنے کو ملیں گے۔