اعتکاف کی فضیلت اور اہمیت
تحریر: سید قمر عباس حسینی
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسی واسطے معاملات و معاشرت میں رہنمائی کے ساتھ اذکار و عبادات کا بھی ایک مکمل اور اعلی و ارفع نظام مسلمانوں کو عطا کیا گیا ہے۔ماہِ رمضان المبارک عبادات کے حوالے سے موسمِ بہارہے،یہ مہینہ بڑی رحمتوں اور برکتوں والا ہے،مومنوں کے لیے عبادت کا مہینہ ہے، یہ روحانی اور جسمانی تربیت کا بے حد عظیم مہینہ ہے۔
اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے نجات کا‘‘۔ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے،قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت اہمیت کا حامل ہے،حدیث اور سنت کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی آخری تہائی میں پہلے سے زیادہ تازہ دم اور انہماک اور جوش و خروش سے عبادت کیا کرتے تھے، آخری عشرے کی ایک خاص عبادت اعتکاف بھی ہے۔ جامع تر تعریف میں یوں کہیں کہ تقرب الہی حاصل کرنے کی خاطر اور عبادت الہی کیلئے مسجد میں کم از کم تین دن تک شرائط مخصوص کی رعایت کرتے ہوئے ٹھہرنا "اعتکاف" ہے ۔اعتکاف کوسنت انبیا اور اولیائ الہی قرار دیا گیا ہے،اور یہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،جہاں ایک گوشۂ تنہائی میں بندہ دنیا کی تمام تر مشغولیات کو ترک کر کے اللہ کے حضور عاجزی سے عبادت کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔
اعتکاف کی تاریخ
پیغمبر اکرم (ص)ہجرت کے دوسرے سال رمضان کے پہلے عشرے میں دوسرے سال درمیانی عشرے میں اعتکاف پر بیٹھے اور اس کے بعد ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں معتکف ہوتے تھے ۔اعتکاف!اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی بجالانے کاایک ایسامنفرد طریقہ ہے جس میں مسلمان دنیا سے بالکل لاتعلق اورالگ تھلگ ہوکراللہ تعالیٰ کے گھرمیں فقط اس کی ذات میں متوجہ اورمستغرق ہوجاتاہے۔ اعتکاف کی تاریخ بھی روزوں کی تاریخ کی طرح بہت قدیم ہے۔قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اس کاذکربھی یوں بیان ہوا ہے۔ارشادِخداوندی ہے: « وَ عَهِدْنا إِلی‏ إِبْراهیمَ وَ إِسْماعیلَ أَنْ طَهِّرا بَیْتِیَ لِلطَّائِفینَ وَ الْعاکِفینَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُودِ»ترجمہ: ”اورہم نے حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل علیہماالسلام کوتاکیدکی کہ میراگھر طواف کرنے والوں کیلئے،اعتکاف کرنے والوں کیلئے اوررکوع و سجود کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھیں“۔(سورة البقرہ: آیت نمبر125) یعنی اس وقت کی بات ہے جب جدالانبیاءحضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کعبة اللہ کی تعمیرسے فارغ ہوئے تھے یعنی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے اعتکاف کیاجاتا تھا۔

اعتکاف کی روح اورحقیقت
اعتکاف کی اصل روح اورحقیقت یہ ہے کہ آپ کچھ مدت کیلئے دنیا کے ہرکام ومشغلہ اورکاروبارِ حیات سے کٹ کراپنے آپ کوصرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کیلئے وقف کردیں۔اہل وعیال اورگھربارچھوڑکراللہ کے گھرمیں گوشہ نشین ہو جائیں اورساراوقت اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی اور اس کے ذکرو فکرمیں گزاریں۔ اعتکاف کاحاصل بھی یہ ہے کہ پوری زندگی ایسے سانچے میں ڈھل جائے کہ اللہ تعالیٰ کواوراس کی بندگی کودنیاکی ہرچیز پرفوقیت اورترجیح حاصل ہو۔
معتکف کو چاہئے کہ وہ مدتِ اعتکاف کوآرام وسکون کاایک موقع سمجھ کر ضائع نہ کرے کہ دن رات صرف سوتا ہی رہے یا یوں ہی مسجدمیں ٹہلتارہے بلکہ سونے اورآرام کرنے میں کم سے کم وقت ضائع کرے ....اور اعتکاف کے ایام کو اپنی تربیت اورآئندہ زندگی کے سنہری اورخاص دن سمجھے.... اور عبادت وریاضت میں سخت محنت کرے....اس طرح کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں خصوصاًاپنی قضاءنمازیں پڑھتارہے ....قرآن وحدیث کی تلاوت کرے.... درودوسلام کاوردکرتارہے ....اورفقہ و اسلامی کتابوں کامطالعہ کرتارہے۔اعتکاف کرنے والا دنیاکے مشاغل سے الگ ہوکرخودکو قاضی الحاجات کے سپردکردے۔ اعتکاف کے ایام میں معتکف فرشتوں کے مشابہ ہوجاتاہے، جواللہ تعالیٰ کی بالکل معصیت و نافرمانی نہیں کرتے بلکہ ہمہ وقت اللہ کے احکام پرعمل کرتے ہیں اوردن رات تسبیح وتحمیداورتہلیل وتمجید میں مشغول رہتے ہیں۔نمازی! نمازپڑھ کرچلے جاتے ہیں لیکن معتکف اللہ تعالیٰ کے گھرکو نہیں چھوڑتااوروہیں بیٹھ کر اپنے خالق حقیقی سے راز و نیاز کرتے ہیں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں ،رحمتوں اور برکتوں کے بارے میں تفکر ،تعقل اور تدبر کرتے رہتے ہیں۔پس اس کیلئے اللہ کی رحمتیں،نعمتیں،برکتیں،سعادتیں اورانعامات واحسانات بھی زیادہ متوقع ہیں۔
اعتکاف کی فضیلت واہمیت
اعتکاف بیٹھنے کی فضیلت پر کئی احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں۔ اِن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مَنِ اعْتَکَفَ يَوْمًا ابْتغَاءَ وَجْهِ اﷲ جَعَلَ اﷲُ بَيْنَهُ
وَ بَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ.’’جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔‘‘
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نےپیغمبر اکرم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ.’’جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔‘‘
رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خالص نیت سے بغیر ریا اور بلا خواہش شہرت ایک دن اعتکاف بجا لائے گا، اس کو ہزار راتوں کی شب بیداری کا ثواب ملے گا اور اس کے اور دوزخ کے درمیان فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ہوگا۔
اعتکاف کیلئے کوئی زمان مقرر نہیں ہے لیکن روایات کی بنا پر رسول اللہ رمضان کے آخری عشرے میں معتکف ہوتے تھے ۔ سیرت رسول کی پیروی کرتے ہوئے اعتکاف کا بہترین زمان رمضان کا آخری عشرہ مستحب مؤکد شمار کیا جاتا ہے اگرچہ دیگر اوقات میں بھی مستحب ہے ۔خداوند ہم سب کو سنت فراموش شدہ انبیا و اولیائ الہی یعنی اعتکاف کو احیا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین